جب وقار سیاست سے بلند ہو جائے
تحریر: محمد محسن اقبال
سیاست اختلاف کا نام ضرور ہے، مگر اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں۔ جمہوریت کی اصل خوب صورتی بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ مخالف نظریات رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کی بات سننے، اختلاف برداشت کرنے اور باہمی احترام کے ساتھ قومی معاملات پر گفتگو کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ پارلیمان محض قانون سازی کی عمارت نہیں، بلکہ قومی شعور، سیاسی تہذیب اور اجتماعی کردار کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے۔ اس ایوان میں بعض شخصیات اپنے منصب، سیاسی وابستگی یا اقتدار کے باعث پہچانی جاتی ہیں، جب کہ کچھ لوگ اپنے اخلاق، متانت اور شرافت سے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ چوہدری محمود بشیر ورک کا شمار انہی شخصیات میں ہوتا تھا جن کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ انسان کا اصل مقام اس کے عہدے سے نہیں، بلکہ اس کے کردار سے متعین ہوتا ہے۔
گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے سینئر پارلیمنٹرین چوہدری محمود بشیر ورک 11 ستمبر 2026ء کو 88 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کے انتقال پر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی جانب سے اظہارِ تعزیت اور خراجِ عقیدت اس بات کا ثبوت تھا کہ سیاسی وابستگیاں اپنی جگہ، مگر شرافت اور وضع داری کا احترام ان تمام حد بندیوں سے بلند ہوتا ہے جو سیاست میں انسانوں کے درمیان قائم ہو جاتی ہیں۔
چوہدری محمود بشیر ورک 25 دسمبر 1937ء کو گوجرانوالہ کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش کامو ورکاں، جسے قلعہ کامو ورکاں بھی کہا جاتا ہے، میں ہوئی۔ ان کے والد چوہدری بشیر احمد ورک کی شخصیت کا ایک روشن پہلو 1947ء کے ہنگامہ خیز دنوں میں سامنے آیا، جب برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں انسانیت آزمائش سے گزر رہی تھی۔ خاندانی روایات کے مطابق، انہوں نے سکھ اور ہندو خاندانوں کو تحفظ فراہم کیا، جن میں کیپٹن اجیت سنگھ بٹالیہ کا خاندان بھی شامل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قرآنِ مجید پر عہد کیا تھا کہ جن لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کی ہے، ان کی سلامتی کو یقینی بنائیں گے۔
یہ واقعہ محض ایک خاندانی روایت نہیں، بلکہ اس اخلاقی عظمت کی یاد دہانی ہے جو مذہب، ذات اور برادری کی تقسیم سے بلند ہو کر انسانیت کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔ ایسے ہی واقعات معاشروں کے اجتماعی حافظے میں محفوظ رہتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو بتاتے ہیں کہ مشکل ترین حالات میں بھی انسان اپنے کردار کی روشنی سے دوسروں کے لیے امید کا چراغ روشن کر سکتا ہے۔ محمود بشیر ورک کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے خاندانی پس منظر کا یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے قانون کے شعبے کو اپنا پیشہ بنایا، سینئر قانون دان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ اپنے شہر کے ایک نجی لاء کالج میں تدریس سے وابستگی نے انہیں قانون کے نظری اور عملی پہلوؤں کو سمجھنے کا مزید موقع دیا۔ وکالت کے دوران ان کا واسطہ آئینی اصولوں، عدالتی طریقِ کار اور عام شہریوں کے مسائل سے رہا۔ یہی تجربہ بعد میں ان کی پارلیمانی زندگی میں کام آیا، کیونکہ قانون ساز ادارے میں بیٹھنے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانون کی روح، آئینی تقاضوں اور عوامی مشکلات سے واقف ہو۔
ان کی سیاسی زندگی کا آغاز قومی اسمبلی سے نہیں، بلکہ بلدیاتی سطح سے ہوا۔ 1962ء میں یونین کونسل کے چیئرمین منتخب ہو کر انہوں نے عوامی خدمت کا سفر شروع کیا۔ قومی اسمبلی میں ان کی پہلی کامیابی 1997ء کے عام انتخابات میں سامنے آئی، جب وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے گوجرانوالہ کی نمائندگی کے لیے منتخب ہوئے۔ 2002ء کے انتخابات میں انہیں کامیابی نہ مل سکی، لیکن 2008ء میں وہ دوبارہ قومی اسمبلی پہنچے اور 2013ء، 2018ء اور 2024ء میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اس طرح انہوں نے قومی اسمبلی کے پانچ ادوار میں عوام کی نمائندگی کی۔ سیاسی حالات کی تبدیلی، انتخابی مقابلوں اور جماعتی صف بندیوں کے باوجود ان کا اپنے حلقے سے تعلق برقرار رہا۔
چوہدری محمود بشیر ورک مسلم لیگ (ن) اور بالخصوص میاں نواز شریف کے سیاسی حلقے سے وابستہ رہے۔ تاہم، ان کی شخصیت کا جائزہ صرف جماعتی وابستگی کی بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا۔ ان کے ساتھی انہیں متانت، شائستگی اور دوسروں کی بات تحمل سے سننے کی عادت کے حوالے سے یاد کرتے تھے۔ اختلاف کرنے والوں کے ساتھ بھی احترام کا رویہ رکھنا ان کی نمایاں خوبیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ سیاست میں جہاں بعض اوقات مخالف کی بات سننا بھی کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے، وہاں تحمل اور شائستگی اختیار کرنا یقیناً ایک قابلِ قدر وصف ہے۔
جنوری 2018ء میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی وفاقی کابینہ میں انہیں وزیرِ قانون و انصاف مقرر کیا گیا۔ وہ مئی 2018ء میں قومی اسمبلی کی تحلیل تک اس منصب پر فائز رہے۔ وزارتِ قانون ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں آئینی تقاضوں، قانون سازی اور انتظامی فیصلوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ان کا قانونی پس منظر اس منصب کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا تھا۔ 2018ء کے انتخابات کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور قانون سازی کے عمل میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات اہم رہیں۔ کمیٹی میں حکومتی بلوں اور نجی ارکان کی جانب سے پیش کیے جانے والے قانونی مسودوں پر غور کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پارلیمان کی کارکردگی کا اندازہ صرف ایوان میں ہونے والی تقاریر، نعروں اور سیاسی مباحث سے نہیں لگایا جا سکتا۔ قانون سازی کا بڑا اور سنجیدہ کام کمیٹیوں میں ہوتا ہے، جہاں مجوزہ قوانین کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر ان کے ممکنہ اثرات پر غور کیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں تحمل، غیر جانب دارانہ طرزِ عمل اور اختلافِ رائے کے لیے گنجائش پیدا کرنا کسی بھی چیئرمین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ان کے انتقال پر وزیراعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی پارلیمانی، سیاسی اور سماجی خدمات کو سراہا۔ 13 اکتوبر 2026ء کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی ارکان نے انہیں یاد کیا۔ یہ اظہارِ افسوس ایک ایسے ساتھی کی جدائی کا اعتراف تھا جس نے کئی دہائیوں تک سیاسی زندگی میں اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن ایسے مواقع پر ایک بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے: کسی پارلیمنٹرین کی حقیقی میراث کیا ہوتی ہے؟ کیا اس کا تعین صرف ان عہدوں سے کیا جائے گا جن پر وہ فائز رہا، یا اس طرزِ عمل سے بھی جو اس نے اپنے ساتھیوں، مخالفین اور عوام کے ساتھ اختیار کیا؟
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔‘‘ (سورۃ آلِ عمران، آیت 26)۔ یہ آیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اقتدار، منصب اور دنیاوی مرتبہ دائمی نہیں۔ وقت کے ساتھ عہدے بدل جاتے ہیں، سیاسی حالات کروٹ لیتے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں نئے چہرے آ جاتے ہیں، مگر انسان کے کردار سے وابستہ یادیں دیر تک زندہ رہتی ہیں۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کتنے بڑے منصب تک پہنچا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اس منصب کو کس طرح استعمال کیا اور اپنے پیچھے کیسی روایت چھوڑی۔
چوہدری محمود بشیر ورک کی زندگی چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط رہی۔ وکالت، بلدیاتی سیاست، قومی اسمبلی، وفاقی وزارت اور پارلیمانی کمیٹیوں میں ان کی خدمات ان کے عوامی سفر کے نمایاں سنگِ میل ہیں۔ لیکن مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ساتھیوں کی جانب سے انہیں دیا جانے والا احترام اس سے بھی زیادہ اہم پہلو کی طرف توجہ دلاتا ہے؛ سیاسی اختلاف کے باوجود شائستگی، پیشہ ورانہ دیانت اور انسانی وقار کو برقرار رکھنا۔
جمہوریت کی مضبوطی صرف آئین اور قوانین سے نہیں ہوتی؛ اسے ایسے کردار بھی درکار ہوتے ہیں جو اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ پارلیمان کی اصل عظمت اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب اس کے ارکان سیاسی وابستگیوں سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کے انسانی احترام کو تسلیم کریں۔ چوہدری محمود بشیر ورک کی زندگی کا پیغام بھی یہی ہے کہ سیاست میں اختلاف فطری ہے، اقتدار عارضی ہے اور عہدے وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، لیکن کردار کی خوشبو باقی رہتی ہے۔ انسان کی حقیقی پہچان اس کے منصب کی بلندی سے نہیں، بلکہ اس شرافت سے ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ اس منصب کی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔ یہی وہ وقار ہے جو سیاست سے بلند ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔
